نئی دہلی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ایسا گھناﺅنا جرم ہے جس کی سزا مجرم کم اور زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کوزیادہ بھگتنی پڑتی ہے۔ زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون اگر غیرشادی شدہ ہو تو یہ واقعہ اس کی شادی میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے اور اگر شادی شدہ ہو تو اکثر اوقات اس کا شوہر اس سے ہمدردی کرنے اور اس کے ساتھ مل کر ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بجائے اسے ہی طلاق دے کر گھر سے نکال دیتا ہے۔
ایسا ہی کچھ بھارت میں ایک 25سالہ خاتون، جو کہ ایک بچے کی ماں ہے، کے ساتھ ہوا۔ اس خاتون کی 5سال قبل شادی ہوئی تھی اور اس کا شوہر دبئی میں کام کرتا تھا۔ شادی کے ایک سال بعد اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، وہ اپنی ساس اور بیٹے کے ہمراہ بھارت میں ہی رہتی تھی۔ دو ماہ قبل ہمسائے کے کچھ اوباشوں نے اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ خاتون کی ساس نے اس وقت اس کا ساتھ دیا اوراسے پولیس اسٹیشن لے کر گئی اور رپورٹ درج کروائی۔چند روز قبل خاتون نے فون پر اپنے شوہر کو بھی واقعے سے آگاہ کر دیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس کا شوہر بھی اس کی طرفداری کرے گا اور آ کر ملزموں کو سزا دلوانے کی کوشش کرے گا مگر نتیجہ اس کی توقع کے بالکل برعکس نکلا۔ فون کال بند ہونے کے 5منٹ بعد ہی خاتون کوموبائل فون پر اپنے خاوند کی طرف سے ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں اس نے لکھا تھا ”طلاق، طلاق، طلاق۔“
خاتون نے برطانوی جریدے ڈیلی میل کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے ایس ایم ایس پڑھا تو میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ وہی ساس جو واقعے کے بعد سے میرا ساتھ دے رہی تھی، اس نے بھی فوراً رویہ بدل لیا اور مجھے گھر سے نکال دیا اورمیرا اکلوتا بیٹا بھی مجھ سے چھین لیا۔ میں میرٹھ میں واقع اپنے ماں باپ کے گھر آ گئی۔ خاتون کا کہنا تھا کہ میں اپنے ساتھ ہونے والے اس واقعے کے بعد جیسے تیسے زندہ رہ رہی تھی مگر سسرال والوں نے تو میری دنیا ہی لوٹ لی۔ طلاق بھی دے دی اور میرا بیٹا بھی چھین لیا جو میری زندگی کی آخری امید تھا۔ اب مجھے زندہ رہنے کی کوئی خواہش نہیں۔
