انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک فوج کے روسی جنگی طیارہ مار گرانے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے واقعے کے بعد ترکی کو سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی تھی۔ روسی صدر کی اس دھمکی کے بعد ترک افواج بھی حرکت میں آ گئی ہیں جس سے خطے میں تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ترکی نے گزشتہ دنوں 20ٹینک شام کی سرحد کی طرف روانہ کر دیئے ہیں اور ساتھ ہی 18لڑاکا طیاروں کو بھی سرحدی علاقے کی نگرانی کا حکم دے دیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار ”دی مرر“ کی رپورٹ کے مطابق ترکی افواج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ٹینک ریل کے ذریعے پولیس کی حفاظت میں بھیجے
گئے جو شام کے ساتھ ملحقہ مغربی بارڈر پر تعینات فوجی بریگیڈ کو فراہم کیے گئے ہیں۔
دوسری طرف روس نے اپنا خطرناک ترین ایس 400اینٹی ایئرکرافٹ میزائل سسٹم شام میں نصب کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ شام کے اس علاقے میںباغیوں پر شدید بمباری شروع کر دی ہے جس علاقے میں ترکی نے اس کا طیارہ گرایا تھا۔ یہ بمباری بحیرہ¿ روم میں کھڑے روسی بحری بیڑے سے کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ شام کے لاتکہ صوبے میں روس کے جنگی طیارے بمباری کر رہے ہیں۔ شام کے معاملات پر نظر رکھنے والے برطانوی ہیومن رائٹس گروپ کا کہنا ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے صوبے کے شمالی علاقے میں 12سے زائد حملے کیے۔واضح رہے کہ روس کی طرف سے بمباری میں یہ شدت ترکی کی طرف سے طیارہ گرائے جانے کے عین اگلے روز سے آئی ہے۔
