Latest News

ایک طرف ہندوﺅں کی انتہا پسندی دوسری جانب مسلمانوں نے حسن سلوک کی مثال قائم کردی، ایسا اقدام کہ پوری دنیا عش عش کر اٹھی

نئی دلی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی عروج پر ہے اور آئے روز کوئی ناکوئی دردناک واقعہ سامنے آتا ہے۔ ایک طرف ہندو شدت پسند اپنے عقائد اور نظریات کے مطابق عمل کررہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں نے بھی اپنے عقائد اور نظریات کے مطابق جواب دینا شروع کردیا ہے۔ 
بریلی شہر میں بھی مسلمانوں نے نفرت کا جواب رواداری اور احسان سے دے کر ایک ایسی مثال قائم کردی کہ جس کے بارے میں بھارت کا متعصب میڈیا بھی بات کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ضلع بریلی کی جیل میں کچھ ایسے غریب ہندو قید تھے کہ جن کے پاس جرمانے کی رقم ناہونے کی وجہ سے سزا مکمل ہونے کے باوجود وہ جیل میں گل سڑ رہے تھے۔ مقامی مسلمانوں نے انہیں قید سے رہائی دلانے کے لئے چندہ جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور بالآخر 15 قیدیوں کے لئے 50 ہزار روپے کا چندہ جمع کرکے انہیں آزاد کروادیا۔
جیل سے نکلنے والے ناند کشور، اجے کمار، کشن ساگر اور تلک وغیرہ نے جب باہر قدم رکھا تو ان کے لئے چندہ جمع کرنے والے کئی مسلمان بھی باہر موجود تھے، جنہوں نے ناصرف ان کا استقبال کیا بلکہ انہیں گھروں کو واپسی کے لئے کرایہ بھی فراہم کیا۔ اس موقع پر رہا ہونے والے قیدیوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آنسو نہیں روک پارہے اور ان کے پاس رہائی دلوانے والے مسلمانوں کے شکریے کے لئے الفاظ موجود نہیں۔ قیدیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلمانوں نے ان کے لئے وہ کردیا جو ان کے اپنوں نے بھی نہ کیا۔ 
اس موقع پر جب رہا ہونے والے قیدیوں نے آبدیدہ ہوکر مسلمانوں کا شکریہ ادا کرنا شروع کیا تو وہاں موجود مسلمان سماجی راہنما حاجی یٰسین قریشی اور ان کے ساتھیوں نے انتہائی انکساری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اللہ کا شکر ادا کریں کہ جس نے انہیں آزادی دی، اور اپنے لئے ہدایت کی دعا کریں۔

Pakistan Times Designed by Templateism.com Copyright © 2014

Theme images by Bim. Powered by Blogger.