ایتھنز پیرس حملوں کے بعد اکثر یورپی ممالک نے اپنی سرحدوں کی طرف بڑھتے پناہ گزینوں کی سخت ترین چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ صرف شام، افغانستان اور عراق کے جنگ سے متاثرہ شہریوں کو ہی پناہ دی جائے گی۔ ایسی صورتحال میں پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک کے وہ افراد جو پناہ گزینوں کا روپ دھار کر شمالی یورپ میں داخلے کی کوشش کررہے ہیں ان کے لئے صورتحال میں اچانک بہت بڑی تبدیلی آ گئی ہے۔ مقدونیہ کی سرحد پر بیٹھے پناہ گزینوں میں ایک قابل زکر تعداد پاکستانیوں کی بھی ہے۔ گزشتہ روز یونان سے مقدونیہ میں داخلے کے خواہشمند ان پناہ گزینوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور وہ مقدونیہ کی سرحد پر لگی خاردار باڑ کے ایک بڑے حصے کو توڑتے ہوئے اندر داخل ہوگئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق شمالی یورپ میں گھسنے کے لئے بیتاب پناہ گزینوں نے خاردار تار کا 30 سے 40 میٹر کا حصہ توڑ ڈالا۔ کچھ پناہ گزین سرحد پر تعینات پولیس اہلکاروں پر پتھر بھی برسارہے تھے جبکہ کچھ ان کے منت سماجت کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ وہ جرمنی جانا چاہتے ہیں لہٰذا انہیں مقدونیہ میں داخل ہونے دیا جائے۔
مغربی میڈیا کے مطابق اب تک 8 لاکھ سے زائد پناہ گزین سمندر کے راستے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ ان کی اکثریت پہلے یونانی سمندر میں پہنچتی ہے اور پھر یونانی جزیروں سے ہوتی ہوئی شمالی یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہے۔
